معلومات

ایک افریقہ کا ان پڑھ جس نے سینکڑوں سرجن ڈاکٹروں کو ٹریننگ دی


اس دنیا میں کامیابی کا تعلق اچھے گھرانے سے ہونا اچھی ڈگری ہونا ہر گز نہیں‌ہے بلکہ اس کا تعلق مستقل مزاجی ، محنت اور صحیح رخ کا تعین ہے جس کے بدولت ایسے لوگوں نے بھی دنیا میں نام پیدا کیا ہے جو کہ کبھی سکول گئے ہی نہیں‌اور زندگی کا بیشتر حصہ مزدوری کرتے ہوئے گزرا لیکن ان کی لگن ، محنت اور حوصلہ کی وجہ سے لوگ اب بھی انہیں‌جانتےہیں‌. آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسی ہی شخصیت سے کرا رہے ہیں‌جس کا بچپن افریقہ کے جنگلات میں‌گزرا اور جوانی سخت محنت و مشقت میں‌گزری لیکن پھر ایک دن اس کی زندگی بدل گئی اور اس کا نام آج بھی لوگوں کو یاد ہے

جنوبی افریقا کے دارالحکومت کیپ ٹاؤن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہےجب کہ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا۔ اس یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں پندرہ سال پہلے2003ءکی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسرڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی اعلان کیا کہ ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے ، جو ایک غیر معمولی استاد اور حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور ماہر سرجنوں کو حیران کردیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن ناکی کا نام لیا اور پورے آڈ یٹوریم نے اس سیاہ فام شخص کا کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا۔ہیملٹن ناکی کیپ ٹاؤن کے ایک دور دراز گاؤں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ین چرواہے تھے ، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، پہاڑوں پر سارا دن ننگے پاؤں پھرتا تھا اور بھیڑ بکریاں چرانے میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ نوجوانی میں وہ تلاش روزگار کے سلسلے میں گائوں چھوڑ کر کیپ ٹائون آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاؤن میں ایک یونیورسٹی کی تعمیر جاری تھی۔وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہو گیا۔ اسے دن بھر کی مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ، وہ ان کا زیادہ  حصہ گھر بھیج دیتا تھا اور خود تھوڑا بہت کھانا کھا کر اور چنے چبا کر کھلے میدان میں سو جاتا تھا۔ وہ کئی برس مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا اور پھر اسییونی ورسٹی میں مالی بھرتی ہو گیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا۔وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا۔ وہ تین برس یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ طب کی جدید تاریخ میں اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی ان پڑھ شخص نہیں پہنچ سکا۔

یہ ایک سہانی صبح تھی۔اسی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پر تحقیق کر رہے تھے ،وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا۔ انھوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا ، اسے بے ہوش کیا لیکن جوںہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چناں چہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت محسوس ہوئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے ،سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا۔ پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انھوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دیا۔ ہیملٹن نے زرافے کی گردن پکڑ لی ، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھامے کھڑا رہا۔آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور گھاس کاٹنا شروع کر دی۔دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے بعد یہ معمول بن گیا۔ وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا۔ ہیملٹن کئی مہینے دونوں کام کرتا رہا۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہو گیا اور اسے مالی سے اسسٹنٹ بنا لیا۔ ہیملٹن کی پرموشن ہو گئی۔وہ اب یونیورسٹی آتا ، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ برسوں جاری رہا۔

1958 ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹر برنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیے۔ہمیلٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا۔ وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا۔ ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈ یشنل سرجن بن گیا۔اب ڈاکٹر آپریشنکرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے۔ وہ انتہائی شان دار ٹانکے لگاتا تھا ، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی پیدا ہو گئی ، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا۔ چناںچہ بڑے ڈاکٹروں نے اس ان پڑھ شخص کو جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔آہستہ آہستہ ہیملٹن یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے نا واقف تھا لیکن بڑے سے بڑے سرجن سے بہتر سرجن تھا۔

1970 ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا ، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کر دی جس کیوجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہو گئی۔اس کی اس نشان دہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کر دیا۔ آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھولتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا سہران ہیملٹن کو بھی جاتا ہے۔ ہیملٹن 50 برس کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ رہا۔ وہ روزانہ 14 میل کا سفر کر کے پیدل یونیورسٹی آتا۔اس نے کبھیاوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا۔پھر اس کی زندگی میں ایک وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کا پہلا ان پڑھ استاد تھا۔ جس نے کبھی ا سکول کا منہ نہیں دیکھا۔وہ انگریزی کا ایک لفظ بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتا تھا۔وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی۔ وہ 2005ءمیں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیا گیا اور اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آؤٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہو جائیں۔
امید ہے آپ کو یہ ملاقات پسند آئی ہوگی اور آپ کو یہ سبق مل گیا ہوگا کہ دنیا میں‌کچھ بھی ایسا نہیں‌ہے جو کہ ممکن نہ ہو اگر انسان محنت کریں اور کسی کی رہنمائی میں‌چلے تو وہ دن دور نہیں‌جب لوگ اس کو اس کے کام کے بدولت جانتے ہونگے اور ہر کوئی اس سے ملنے کی خواہش رکھتا ہوگ


مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • Hello, Neat post. There is an issue with your site in internet explorer, would
    test this? IE still is the marketplace chief and a big component
    of other people will miss your great writing due to this problem.