کہانیاں

ایک ماہ کا مسلمان


گرمیوں کا موسم،سردیوں کا موسم،خزاں کا موسم، یا ہو بہار کا موسم،بچپن ہی سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر موسم کے حساب سے اسکی تیاریاں ک جاتی ہیں،اُس کو خوشآمدید کہا جاتا ہے لیکن کبھی نہ سوچا تھا کہ ان موسموں کے ساتھ ساتھ کبھی پانچویں موسم کا گزر بھی زندگی میں آئے گا لیکن بعض دفعہ چیزیں بہت منفرد انداز میں آپ کے سامنے آکر آپ کی سوچ کو تبدیل کر جاتی ہیں کچھ اسی طرح سے میرے ساتھ ہوا جب چند دن پہلے پانچواں موسم یعنی”نیکیوں کے موسم” سے مجھے صرف 7سالہ بچے نے متعارف کرایا۔وہ بہت گرمی کا دن تھا جب میں بس اسٹاپ پہ کافی دیر سے بس کے انتظار میں کھڑی تھی،تبھی وہ بچہ اس چنچلاتی دھوپ میں میرے پاس آیا تھا اور مجھ سے کھانے کے لئے پیسے مانگے تھے۔گرمی،غصہ اور جھنجھلاہٹ کی ملی جلی کیفیت میں آکر میں کچھ بڑ بڑائی تھی اور اسے معاف کرنے کو کہا تھا،وہی روایتی جملہ”معاف کردو”۔۔۔

“کردیا۔۔پر باجی تمہارا خدا تمہیں معاف نہ کرے”

معصومیت سے بولا گیا جملہ بظاہر تو سماعت سے ٹکرایا تھا لیکن اندر ہہی کہیں ڈرون حملے والی تباہی مچا گیا تھا۔وہ جو اپنی بات کہ کر وہاں سے چل پڑا تھا میں نے اسے آواز دے کر بلایا تھا۔میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے مجھ سے سوال کیا تھا۔۔”باجی آپ مسلمان ہو۔۔؟”
شرمندگی کو ضبط کرتے ہوئے بمشکل میں نے سر ہلاکر ہامی بھری تھی۔
وہ بچہ مسکرایا تھا “رمضان والی مسلمان ہو۔۔؟”
شرمندگی نے جیسے پورے جسم کو جکڑلیا ہو۔۔ہاتھوں کو برف کی طرح ٹھنڈا محسوس کیا تھا اور لبوں کو جنبش دے کر اسکے اسطرح بولنے کی وجہ دریافت کی تو جواب میں اسنے مجھے نیکیوں کے موسم کا حوالہ دیا تھا۔۔
“آپ لوگ اچھے کام رمضان میں کرتے ہو ناں۔۔!”
میں نے وقت ضائع کئے بغیر بیگ سے پیسے نکال کر اسے پکڑائے۔۔۔
وہ جانے لگا تو میں نے روک کر سوال کیا۔۔۔
“کیا تم مسلمان ہو؟”
اسکے جواب کی آج بھی کانوں میں گونج ہے۔۔
“پتہ نہیں باجی۔۔اپنا مذہب نہیں جانتا پیچھے ایک گوٹ ہے وہاں رہتا ہوں”جگّن” کے ساتھ۔۔کبھی کھانا دیتا ہے کبھی نہیں،جب نہیں دیتا تو سامنے درگاہ میں جاکر کھا لیتا ہوں۔۔آج درگاہ جانے میں دیر ہوگئی تھی تو کھانا نہیں مل سکا۔۔”
اسکے انداز میں مایوسی اتری تھی،گہری مایوسی۔۔۔پھر کچھ رک کر بولا۔
“ابھی رمضان آئے گا۔۔اُس میں اپنے گوٹ میں روز کھانا بٹتا ہے،جگن کہتا ہے مسلمان روز کھانا دینے آتے ہیں۔”
سکوت میں آۓ اسکی باتوں کو سنتے ہوئے میں ایک دم بولی تھی۔
“تمہیں مسلمان اچھے لگتے ہیں۔۔؟” 
اس نے مسکراکر بولا۔
“ہاں لگتے ہیں ناں۔۔لیکن صرف رمضان والے۔۔!”
وہ چلا گیا تھا لیکن مجھے جیسے افسوس اور ندامت کے دلدل میں چھوڑ گیا ہو۔

آخر کیوں ہم صرف ایک ماہ کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں،آخر کیوں ہم نے نیکیوں اور اچھے کاموں کو رمضان تک محدود کردیا ہے اور سال کے بارہ ماہ ان سب سے لا تعلق رہتے ہیں،آخر کیوں صرف رمضان میں ہی ہمیں غریبوں،مسکینوں اور ناداروں کا خیال آتا ہے۔اے کاش کہ ہم مسلمان اِس ایک ماہ کی طرح پورا سال گزاریں تو اپنے ملک میں کوئی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے۔۔اے کاش کہ ہم سال کے 12 مہینے خدا کے بندوں کا اسی طرح خیال رکھیں جیسے وہ ہمارا رکھتا ہے۔

اے کاش مجھے وہ بچہ پھر ملے تو کہے۔
“مجھے مسلمان اچھے لگتے ہیں”
نہ کہ یہ کہے۔۔
“مجھے صرف ایک ماہ کے مسلمان اچھے لگتے ہیں”

دعا ہے کہ خدا ہم سب کو ایک اچھا انسان اور بہترین مسلمان بننے کی توفیق عطا کرے

ہیں تیاریاں عروج پر رمضان آنے والا ہے
گناہ گاروں کی بخشش کا سامان آنے والا ہے
عبادتیں۔۔تراویاں۔۔ایثار۔۔۔۔اور۔۔۔۔ قربانیاں
کہ ایک ماہ کا مسلمان آنے والا ہے


مصنف کے بارے میں

Techy Monsters

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.