معلومات

تارکین وطن کے لئے نائیکوپ کی شرط ختم


ے روزگار پاکستانیوں کو نوکریوں کی فراہمی کیلئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، جاپان اور کویت کے ساتھ اہم معاہدے کرلیے گئ 

وزارت اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت پاکستانی تارکین وطن کی فلاح و بہبود اور مزدوروں کے معاشرتی تحفظ کے لئے بڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزارت اوورسیز پاکستانیز کے ایک سینئر عہدیدار نے ’’اے پی پی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے بیرون ملک روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ملک میں مزدوروں کو مناسب کاروباری حالات اور معاشرتی تحفظ کی فراہمی کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔

وزارت کی دو سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملازمت کے لئے 4 لاکھ 96 ہزار 286 اور 3 لاکھ 82 ہزار 439 پاکستانی تارکین وطن بالترتیب 2017 اور 2018ء کے دوران بیرون ملک روانہ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت اوورسیز نے افرادی قوت کی برآمد کو بڑھانے کے لئے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، جاپان اور کویت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانیوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مزید مارکیٹوں کی تلاش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جس نے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے ، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور امیگریشن کے عمل میں ہونے والی خرابیوں کو روکنے کے لئے بیرون ممالک جانیوالے تارکین وطن کی 100 فیصد بائیو میٹرک تصدیق کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں سات پروٹیکٹوریٹ دفاتر میں بائیو میٹرک تصدیقی نظام کو قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے جوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امیگرنٹس کی لاگت کو کم کرنے کے لئے تارکین وطن کے لئے قومی شناختی کارڈ برائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں (نائیکوپ) کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ فلاحی فنڈ ، انشورنس چارجز اور پروموشن فیس سمیت تمام رجسٹریشن فیسوں کی وصولی کے لئے ون ونڈو سہولتی ڈیسک تمام پروٹیکٹوریٹ دفاتر میں قائم کر دیے گئے ہیں۔

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) ہیڈ آفس میں پاسپور ٹ آفس کا قیام، قطر ویزا سینٹرز ، ماڈل پولیس تھانہ ایف۔6 ، اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص ڈیسک کا قیام ، نیا پاکستان کالنگ کے نام سے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے وزارت اوورسیز میں آن لائن شکایت کے ازالے کا نظام اور روزگار کے فروغ کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ آن لائن رابطے کی تشکیل وزارت اوورسیز کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئے گئے دیگر اقدامات میں شامل ہیں۔

انہوں نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔جس میں 355 کنال پر پھیلے ہوئے او پی ایف گرینز(فارم ہاؤسنگ اسکیم) لاہور اور رائے ونڈ روڈ ، لاہور میں او پی ایف ٹاؤن کی ترقی بھی شامل ہے۔افسر نے بتایا کہ وزارت اوورسیز نے او پی ایف ہاؤسنگ اسکیم ، زون فائیو، اسلام آباد میں چھ اپارٹمنٹس پر مشتمل 50 کنٹری ہومز اور 126 ہاؤسنگ یونٹس اور او پی ایف میں اپارٹمنٹس کی بلند عمارتوں پر مشتمل منصوبہ کو بھی حتمی شکل دے دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت اوورسیز نے کورونا وباء کے دوران دنیا بھر میں انخلاء کے سب سے بڑے آپریشن کے تحت 3لاکھ سے زیادہ شہریوں کو وطن واپس لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ، کورونا وائرس وبائی مرض کی وجہ سے عالمی سفر رکنے کے بعد یہ آپریشن شروع کیا گیا۔وزارت اوورسیز کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وزارت نے ووہان میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلباء کو پکا ہوا کھانا بھیجنے کے لئے حکومت کو 20 ملین روپے فراہم کیے تھے اور بعد میں ان کی واپسی کے لئے سبسڈی کے تحت ٹکٹس کی فراہمی کے ذریعے ان کی وطن واپسی کو یقینی بنایا۔

مزدوروں کے حامی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملازمین اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے پنشنرز کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے 20 ماہ کے دوران کل پنشن میں 62فیصد اضافہ کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سال ای او بی آئی کے پنشنرز 8ہزار 500روپے ماہانہ پنشن حاصل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی نے 2019 میں پنشنرز کی پنشن میں 30 فیصد اضافہ کیا تھا جس کے بعد پنشن 6500تک پہنچ گئی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ستمبر سے پوسٹل سروسز جیسے مختلف طریقوں کا استعمال کرکے ای او بی آئی کے پنشنرز کو ان کی پنشن گھر کی دہلیز پر فراہم کی جائے گی۔


مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.