سیاست نگری

لڑکھڑاتی جمہوریت کی جیت-اظہر تھراج


قوم کو مبارک ہو کہ ملکی تاریخ میں تیسری مرتبہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرچکی ہیں۔ جمہوریت کےلیے یہ ایک اچھا اشارہ ہے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کی نوید بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ماضی کا احتساب کرلیں تاکہ ہمارے لیے حال اور مستقبل آسان ہوجائے۔ ایسا کرنے سے انسان کےلیے اپنی راہ متعین کرنے اور منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

یہی حال ملکوں اور قوموں کا بھی ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنے گزرے کل کا احتساب کرتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم یہ فارمولا اپنے ملک پر لاگو کرلیں تو سب کو مات دے سکتے ہیں، اپنے ہمسائے دشمنوں کو اپنے پر رشک کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں، لیکن افسوس کہ جمہوریت کےلیے ہمارا ماضی کوئی خوشگوار نہیں۔

آج سے پانچ سال قبل 11 مئی 2013 کو پاکستان میں عام انتخابات ہوئے جن کے نتیجے میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی، بلوچستان میں مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اورپختونخوا ملی عوامی پارٹی نے مل کر حکومت بنائی؛ جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے مخلوط حکومت بنائی۔ 2013 میں منتخب ہونے والے سابق وزیراعظم نوازشریف، وزیر خارجہ خواجہ آصف، پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین سمیت 50 سے زائد ارکان اپنی نشستوں سے محروم ہوئے یا انتقال کرگئے۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 100 کے قریب ضمنی انتخابات ہوئے اور 100 سے زائد ارکان اب تک اپنی جماعتوں سے باغی ہوچکے ہیں، تاہم فلور کراسنگ پر صرف ایک رکن کو نااہل کیا گیا جو پختوخواہ ملی عوامی پارٹی سے ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق عدالتی فیصلے کے نتیجے میں تبدیل ہوئے مگر ضمنی انتخابات کے بعد پھر اسپیکر بنے اور درمیانی عرصے میں کوئی دوسرا اسپیکر نہیں بنا۔

بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے تقریباً تمام ارکان باغی ہوئے۔ بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں پر 5 سال میں 3 وزرائے اعلیٰ بنے، جن میں نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مسلم لیگ (ن) کے نواب ثناء اللہ زہری اور مسلم لیگ (ق) کے عبد القدوس بزنجو شامل ہیں۔ بلوچستان میں قائد حزب اختلاف بھی تبدیل ہوئے: پہلے جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع اور بعد میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے عبدالرحیم زیارتوال اس عہدے پر فائز ہوئے۔ سندھ میں دو وزرائے اعلیٰ بنے جن میں سید قائم علی شاہ اور سید مراد علی شاہ شامل ہیں، دونوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ سید قائم علی شاہ 2016 میں مستعفی ہوئے اور سید مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ بنے۔

عمران خان، طاہر القادری اور چند پریشر گروپوں کے دھرنے الگ سے ان کی سانسیں اکھاڑتے رہے، اب گئی تو تب گئی کی باتیں سنتے سنتے کان پک چکے تھے۔ ایک صاحب تو روز ڈیڈ لائن دیتے کہ اگلے ہفتے حکومت نہیں ہوگی۔ یہ حکومت کی ہمت ہے کہ گرتے، سنبھلتے وننگ لائن عبور کر ہی گئی۔

ملک کی جمہوری تاریخ نہایت ہی تلخ ہے۔ آج تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرسکا۔ مشرف دور میں تین وزرائے اعظم بنے، پیپلز پارٹی کے دور میں پہلے یوسف رضا گیلانی تو بعد میں راجہ پرویز اشرف۔ اسی طرح حالیہ حکومت میں پہلے نواز شریف تو اب شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم ہیں۔

آئندہ بھی شاید ایسا ہوتا رہے، کیونکہ منتخب کوئی کرتا ہے تو حکومتیں کوئی اور بناتے ہیں۔ اگر مستقبل میں بھی ایسا ہی ہونا ہے تو وزیر اعظم کا ٹینیور ہی کم کردیا جائے، یا پھر تین کے بجائے چار سال کردیا جائے تاکہ کوئی بھی اتنی جلدی بیزار نہ ہو۔ اس طرح ملک سازشوں سے بھی بچ سکتا ہے اور جمہوریت بھی پروان چڑھ سکتی ہے۔

اس سے ذرا پیچھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کردیا گیا، ان کے بعد آنے والے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کردیا گیا، تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ سے زبردستی استعفیٰ لے لیا گیا۔ حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگر مستعفی ہوئے تو فیروز خان کا تختہ الٹ دیا گیا۔ ان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا پہلے تختہ الٹا گیا پھر ان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ دور آمریت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو برطرف کرکے گھر بھیج دیا گیا، بے نظیر بھٹو کو دونوں ادوار حکومت میں برطرف کیا گیا، تیسری مرتبہ یہی نظر آرہا تھا کہ وہی وزیراعظم ہوں گی لیکن الیکشن سے چند دن پہلے ہی انہیں اسی جگہ قتل کیا گیا جہاں پہلے وزیراعظم کو گولی ماری گئی تھی۔ نواز شریف سب سے بدقسمت وزیر اعظم ثابت ہوئے ہیں۔ انہیں 1993 میں پہلے برطرفی، پھر بحالی اور بعد میں استعفیٰ لے لیا گیا۔ 1999 میں تختہ الٹ کر جیل میں ڈالا گیا، 2017 میں غیر ملکی اقامہ رکھنے پر تاحیات نااہل کردیا گیا۔

ملکی تاریخ میں تیسری مرتبہ اسمبلیاں اور دوسری مرتبہ بڑی سیاسی جماعتوں کی جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری کر رہی ہیں لیکن دونوں میں ایک بات قدرے مشترک ہے کہ دونوں ادوار میں دو، دو وزرائے اعظم رہے اور ابتدائی چار سال گزارنے والے دونوں وزرائے اعظم کو نااہل کرکے اقتدار سے باہر کیا گیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وزرائے اعلیٰ تبدیل نہیں ہوئے، تاہم خیبر پختونخوا میں حکومتی اتحاد پارہ پارہ ضرور ہوگیا۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان مسلسل باغی ہوئے، تاہم اس کے باوجود ان کی سادہ اکثریت برقرار رہی۔ سوائے خیبر پی کے حکومت کے تمام حکومتوں نے اپنا چھٹا بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

آخر ایسا کیوں ہوتا رہا؟ ہم اتنے بے صبرے کیوں ہیں کہ حکومت بنتے ہی اس کے پاؤں کھینچنے شروع کردیتے ہیں؟ اس کے خلاف لاؤ لشکر لے کر سڑکوں پر آجاتے ہیں؟ اس کی کئی وجوہ میں سے ایک وجہ سیاستدانوں کے اپنے رویّے ہیں، غیر سنجیدگی ہے جو اپنے گھر میں نقب ڈالنے کےلیے تیسری قوت کو موقع دیتی ہے، پارلیمنٹ کے فیصلے سڑکوں اور عدالتوں میں، تو باہر کے فیصلے پارلیمنٹ میں کیے جاتے ہیں۔

دوسری وجہ برتری کی جنگ ہے۔ نوکر مالکوں کو اپنے قدموں میں دیکھنے کےلیے ہر طرح کی چال چلتے ہیں، کبھی ڈرا دھمکا کر تو کبھی مقدمات بنا کر۔ جو ڈرے وہ استعفے دے کر گھر بیٹھ گئے اور جو ڈٹے رہے وہ زبردستی گھر بھیج دیئے گئے یا انہیں جیل کی دال کھانی پڑی۔

لیکن اب وہ دور نہیں رہا، اب سازشیں عمل کو پہنچنے سے پہلے بے نقاب ہوجاتی ہیں۔ اب سنبھلے ہیں تو سنبھل کر چلتے رہیے۔ اب لڑکھڑائے تو سنبھالنے والے کوئی نہیں ہوگا، روڑے مارنے والے بہت ہوں گے۔


مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.