سیاست نگری

پابندِ سلاسل ووٹ-مسعود عباس جنجوعہ


’’اوئے خیرو تم نے اس دفعہ ووٹ کس پارٹی کو دینا ہے؟‘‘ گاؤں کے چوہدری صاحب نے اپنے مزارع خیرو سے پوچھا۔

خیرو اپنی جگہ سے اٹھا اور چوہدری صاحب کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بولا، ’’چوہدری صاحب! آپ ہی ہمارے مائی باپ ہیں۔ آپ جدھر حکم کریں گے، وہاں ووٹ دوں گا۔‘‘

چوہدری صاحب کے ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ آگئی اور انہوں نے اپنی مونچھوں کو ہلکا سا تاؤ دیتے ہوئے کہا ’’ووٹ فلاں پارٹی کے امیدوار کو دے دینا۔ اور خبردار! جو میرے حکم کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی، ورنہ زندہ گاڑ دوں گا۔‘‘

’’نہ چوہدری صاحب نہ! آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرنا تو دور، میر ے لیے ایسا سوچنا بھی گناہ ہے!‘‘

خیرو گھر آیا تو اس کے گریجویشن پاس بیٹے نے کہا کہ ابا اس بار ووٹ کسی ایسی پارٹی کو دیا جائے جو ملک کی ترقی کےلیے کچھ کرے، نہ کہ کرپشن کرتے ہوئے اپنا وقت پورا کر کے چلتی بنے۔

’’نہیں،‘‘ خیرو نے گرجدار آواز میں اپنے بیٹے کو صاف انکار کر دیا، اور بتایا کہ ووٹ تو ہم سب چوہدری صاحب کے کہنے پر ہی دیں گے۔ ’’لیکن ابا…‘‘ خیرو نے بیٹے کی بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’لیکن ویکن کچھ نہیں، تمہیں پڑھانے لکھانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم باپ کی نافرمانی کرتے پھرو،‘‘ یہ سننا تھا کہ بیٹا خاموش ہوگیا۔

ہمارے معاشرے میں ایسی کئی مثالیں موجود ہوں گی کہ جب انسان چاہتے ہوئے بھی اپنی مرضی سے اپنا ووٹ نہیں دے سکتا ہے۔ ووٹ والے دن سے کچھ دن پہلے آپ کو طرح طرح سے بلیک میل کرنے والے لوگ آجاتے ہیں، جن میں کبھی خیرو کی طرح کے ملازموں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ووٹ اپنے مالک کی مرضی سے دے، تو کبھی خاندان کے بڑے بزرگ اپنے چھوٹوں کو اور نوجوان نسل کو حکم دیتے ہیں کہ ووٹ تو صرف بزرگوں کی مرضی سے دیا جائے گا۔ ورنہ وہ بزرگوں کی تاحیات ناراضگی برداشت کرنے کےلیے تیار ہوجائیں۔

اور پھر اکثر اوقات ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا ووٹ اپنی ناپسندیدہ پارٹی کو ہی دینا پڑتا ہے، کیوں کہ اس پارٹی کا امیدوار ہماری برادری یا قوم کا ہوتا ہے اور ہمیں یہ گوارا نہیں ہوتا کہ ہماری قوم کا امیدوار دوسری قوم کے امیدوار سے ہار جائے۔ (قوم سے یہاں مراد ذات ہے مثلاً راجہ، چوہدری، ملک، بٹ اور بھٹی وغیرہ۔) اکثر لوگ یہ بات ماننےسے انکاری ہوں گے کہ اب ہمارے ملک میں ایسا نظام نہیں رہا، لوگ آزاد ہو گئے ہیں اور اپنی مرضی سے ووٹ دیتے ہیں۔ لیکن میرا مشاہدہ پھر بھی یہی ہے کہ آج بھی ملکِ پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لوگوں کو مختلف طریقوں سے ان کی پسند کے خلاف ووٹ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اور لوگ ایسا کرتے بھی ہیں۔

آخر کب تک ہمارے ملک میں ایسا ہوتا رہے گا کہ ہم لوگ اپنے بزرگوں کے کہنے پر، برادری کے نام پر، ذات پات کے نام پر، جاگیرداروں کے کہنے پر اور کہیں کہیں پیسے لے کر اپنا ضمیر فروخت کرکے اپنا قیمتی ووٹ ضائع کرکے ایسی پارٹی کو حکومت میں لاتے رہیں گے جو ہمیں سوائےغلامی، رسوائی، بدنامی، کرپشن، لوڈشیڈنگ، بےروزگاری اور لڑائی جھگڑے کے کچھ نہ دے سکی ہو۔


مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.