معلومات

پاک فوج اور 80فیصد بجٹ


کسی بھی ملک کی سرحدوں کے دفاع کی ذمہ دار اس ملک کی فوج ہوتی ہے جبکہ اس کے اندرونی معاملات کو (سو ل انتظامیہ) اس ملک کی پولیس ذمہ دار ہوتی ہے۔ ملک کے دفاع کے لیے جتنی مہارت یافتہ فوج ہو گی اتنی ہی اس کی سرحدیں محفوظ ہوں گی اور کسی بھی دوسرے ملک کی فوج کا مقابلہ کرنا اتنا ہی آسان ہو گا۔ جس ملک کی فوج نہیں ہوتی یا پھر کمزور ہوتی ہے تو پھر دوسرے ممالک اس کا کیا حشر نشر کرتے ہیں وہ تصور سے باہر ہے۔ ہر ملک اپنی فوج کو بہترین تربیت دیتا ہے، اور دور جدید کے مطابق جدید جنگی سازو سامان سے لیس ہوتی ہے۔ فوجی ادارہ جتنا مضبوط،اور تربیت یافتہ ہو گا اتنا ہی وہ ملک محفوظ ہوگا۔ ورنہ جاپان کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی مثالیں تاریخ میں رقم ہیں۔ یہ ادارہ اسی وقت اپنے فرائض صحیح طور پر سر انجام دے سکتا ہے جب اس کی قوم،سیاسی لیڈر اور قومی رہنماایک صفحہ پر ہوں گے۔ایک مشن،منشور اور مقصد ہو گا۔ دانشور وں کاکہنا ہے کہ جس ملک کے لیڈر اپنی ہی فوج کے خلاف ہو ں تو بہتر ہے دشمن سے لڑنے سے پہلے ان کو ختم کر دیا جائے کیونکہ ایسے ہی ناکارہ سیاسی لیڈر وں کی بدولت فوج جنگ ہا ر جاتی ہے۔پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے ستر سال سے زائدعرصہ ہو گیا۔الحمد اللہ آج ہماری پاک فوج دنیا کی نمبر ون فوج ہے۔ جنگی مہارت،جنگی سازو سامان سب سے بڑھ کر قوت ایمانی جیسا زیور۔لیکن جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے اس کے مخالف اسی دن سے خدانخواستہ اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔ نام نہاد سپر طاقتیں مختلف طرح کے حیلے بہانوں سے پاکستانی فوج کو زیر کرنے کے چکر میں رہتی ہیں۔ جب ان طاقتوں کو باوور ہو گیا کہ پاکستانی فوج کو کسی بھی لحاظ سے زیر نہیں کیا جا سکتا ہے تو مختلف سیاسی اور غیر سیاسی ایجنڈوں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ان ایجنڈوں کے شکار زیادہ تر سیاسی طبقہ ہوتا ہے۔ یا پھر میڈیاکو بھی اپنے استعمال میں لا کر عوام کو فوج کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ سادہ عوام بہت جلد ان کے باتوں میں آکر اسیر ہو جاتی ہے۔ ہماری پاک فوج ہمارے ماتھے کا تاج ہے۔ مجھے بے حد افسوس ہوتا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر چند نام نہاد لوگ خود یا کسی کے کہنے پر فوج کے خلاف بکواس کر رہے ہیں۔ مختلف قسم کی باتیں شیئر کی جا رہی ہیں۔ میں یہاں کلیئر کرتا ہوں جو میرے علم میں آیا ہے ”جب آقائے دوعالم حضرت محمد ﷺ اپنے مالک حقیقی سے جاملے تو ان کے حجرہ مبارک سے کوئی ہیرے جوہرات، بنک بیلنس یا مال و زر نہیں بلکہ نو تلواریں ملیں،یہ تلواریں ایک سے بڑھ ایک اعلیٰ قسم تلواریں تھیں۔تو اس سے ثابت ہوا کہ جنگی سازو سامان کتنا ضروری ہے۔ اپنی بقا اور نسلوں کے محفوظ اور خود مختار مستقبل کے لیے جب تک دفاعی لائن مضبوط نہیں ہوگی تو اس وقت تک آنے والی نسل کومحفوظ کل نہیں سوپننا ناممکن ہو گا۔ دوستو! پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے۔جبکہ اس کا بجٹ دنیا کی تمام افواج سے کم ہے۔ پاکستانی فوج کا بجٹ کل بجٹ کا پندرہ فیصدشاید ہی ہو۔ یہ دنیا کی واحد فوج ہے جو دنیا کے سب کے بڑے جنگی محاذ پر ہر وقت جنگی حالت میں رہتی ہے، یہ لمبی اور طویل سرحد افغانستا ن۔ہم سرد راتوں میں گرم لحاف میں سوتے ہیں اور سردی کو مزید کم کرنے کے لیے ہیٹر کو استعمال میں لاتے ہیں۔ گرمی ہو تو ایئر کنڈیشنز، روم کولر کا سہارا لیتے ہیں، ایک عام آدمی بھی جب دل کرتا ہے نہا کر اپنی گرمی کی شدت کو کم کر لیتا ہے۔ جنگ چھڑتی ہے،تو ہم بے فکر اپنے گھرو میں سکون فرما ہوتے ہیں، ریڈیو یا ٹی وی پر خبریں سنتے ہیں۔ جنگی میدان کا اندازہ ہوتاہے۔ ان جنگی میدانوں میں کون سینے پر گولیاں کھاتے ہیں، کبھی سوچا، کون ہیں وہ لو گ جو ہمارے اور ہماری نسل کے کل کے لیے اپنا ا ٓج قربان کر رہے ہیں۔ جنگی محاذ ہو، سیلاب ہو، قیامت برپا کر دینے والا زلزلہ ہو یا اندرونی سازشیں ہوں، ان تمام مواقع پر پاک فوج ہی اپنے آپ کو پیش کرتی ہے جبکہ اس کی تو صرف ذمہ داری بارڈر کو محفوظ رکھنا ہے۔ ہے کوئی جو ثابت کر سکے کہ پاکستانی فوج ۰۸ فیصد بجٹ کھا جاتی ہے۔ ناسوروں اور ملک دشمن ایجنڈوں پر کام کرنے والوں سے پوچھا کرو کہ اگر ہماری فوج ۰۸ فیصد بجٹ کھا جاتی ہے تو باقی بے شمار ادارے کیسے کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو ایک لاکھ روپے تنخواہ ملتی ہو اور اس میں سے ۰۸ فیصد اپنے دوستوں میں تقسیم کر جاؤ تو کیا ایسا ممکن ہے کہ باقی ۰۲ فیصد بجٹ سے اپنے گھر کا کچن، دیگر معاملات، بچوں کی تعلیم کے اخراجات پور ے کر پاؤ گے۔ ہر گز ہیں۔ یہ سب جھوٹی اور من گھڑت خبریں اور افواہیں قوم کو اپنے ہی دفاع کو کمزور کرنے کے سیاسی لوگ ہی کرتے ہیں۔ یہ کوشش آج سے نہیں شروع سے ہی جاری ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ سوشل میڈیا اب آیا ہے اور لوگ بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ میرے بزرگوں، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں اولاد کو جوان کرنا اتنا آسان نہیں، بیٹی کو دلہن بنا کر رخصت کرنا کوئی معمولی بات نہیں، پھر یہ جوان گاجر مولی کی طرح قربانی دے رہے ہیں، کوئی نہیں چاہتا ہے اس کی ماں اپنے جوان بچے کی میت کو کندھا دے، بیٹی بیوہ ہو جائے، بچے یتیم ہو جائیں۔ ہم ابھی ٹولیاں بنا کر کھیل رہے ہوتے ہیں اور یہ میرے جوان اس وقت گراؤنڈ میں اپنے ملک و ملت کے دفاع کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہوتے ہیں، ابھی ہم صحیح طرح سردی اور گرمی سے اپنے آپ کو بچانے کے قابل نہیں ہو پاتے، لیکن میرے پاک وطن کے جوان قرآن پر حلف لے رہے ہوتے ہیں کہ ہم اپنا آج قوم کے کل پر قربان کر دیں گے۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ قوم کے کچھ شر پسند لوگ انہیں کے سایہ میں ان کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ میرے جوانوں کا خون اتنا سستا نہیں۔ جس کا جو دل میں آئے بکتا پھرے۔ پاک فوج دنیا کی افواج سے کم ترین بجٹ پر تربیت حاصل کرکے اپنے ملک کا دفاع نا قابل تسخیر بناتی ہے، اسی کے مقابلے میں محکمہ تعلیم یا کسی اور کو لیجئے اس نے اپنا کتنے فیصد رول ادا کیا اور کتنے فیصد ناقابل تسخیر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ جنگ کے علاوہ یہ اور دیگر بے شمار محکمے کسی بھی آفت کے وقت کہاں ہوتے ہیں؟؟ طوفان ہو، آندھی یا کسی نہر، دریا میں کشتی الٹ جائے تو کون ڈھال بن کر آتا ہے۔ بجٹ تو باقی بھی ہضم کر جاتے ہیں، کیا وہ اس وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس قابل نہیں یا صرف آٹھ گھنٹے ڈیوٹی بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ سکولوں میں فرسٹ ایڈ، دفاعی مشقیں،آگ بجھانے کی تربیت یہ سب کہاں گئیں اور کیوں۔ پاک فوج کے علاوہ کسی بھی محکمہ کو اس کے بجٹ کی حیثیت کے مطابق موازنہ کرو اس ملک وطن پر کون قربان ہوتاہے۔ اچانک سکیم کے لیے انجان جگہوں پر بھیج دیا جاتا ہے،نہ اس جگہ کے خدو خال کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ماحول کے بارے میں کہ یہاں کیسے چرند پرند، کیڑے مکوڑے رہتے ہیں لیکن بغیر اف کیے اپنے ملک کی دفاعی تربیت کے لیے خامو شی سے چلے جاتے ہیں، دوسری طرف تمام محکماجات کو لے لیجئے چند کلومیٹر دور تبادلہ یا ٹرانسفر کر دیا جائے تو مجبوریوں کے انبار لگا دیئے جاتے ہیں اور سیاسی آقاؤں کی سفارشیں لیے اپنا تبادلہ رکوانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ پاک فوج کا سپاہی ابھی مارننگ اسمبلی اٹینڈ کر رہا ہوتا ہے اسے پیغام ملتا ہے کہ آپ کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ وہ نہ روتا ہے، نہ سیاسی سفارش ڈھونڈتا ہے اور نہ ہی منہ بگاڑتا ہے چپ چاپ نئی جگہ چلا جا تا ہے، اس کے بھی والدین ہیں، بچے، بہن بھائی اور باقی تمام رشتے بھی ہیں لیکن وہ سمجھتا ہے کہ شاید میری یہاں سے وہاں ضرورت زیادہ ہے۔ پھر فیلڈ میں جس طرح کی زندگی گزارنا پڑتی ہے اس کا تصور بھی کرنا ناممکن ہے۔ لیکن اس کے باوجوو میری فوج کا جوان اپنے فرائض میں غفلت نہیں برتتا۔ لیکن جس کو وزیر دفاع بنا یا جائے وہ اے سی گاڑی سے نکل کر اے سی اسمبلی ہال میں انٹرنیشنل لیول پر کھڑ ا ہو اسی فوج کے خلاف بہت کچھ کہتا ہے لیکن میری فوج کا سپاہی پھر بھی خاموش رہتا ہے، اس کی طرف سے کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں ہوتا۔ وزیرستان اور سوات آپریشن، ضرب عضب،ردالفساد، کراچی آپریشن، کچے کا آپریشن وغیرہ وغیرہ میرے ملک کا سپاہی اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ مجھے کوئی بتا سکتا ہے کتنے سیاستدانوں کے گھروں میں ان کے لختِ جگر کے جنازے قومی پرچم میں لپٹ کر آئے ہیں۔ شاید ان کے نصیب میں قوم کی خدمت نہیں ہے بس قوم کو لوٹنا ہی نصیب نظر آرہا ہے۔ ان سیاستدانوں کے بچے بیروں ملک جا کر پڑھ تو سکتے ہیں، واپسی پر انٹی پاکستان مائنڈ کے ساتھ فوج کے خلاف تو بول سکتے ہیں لیکن فوج میں اپنی خدمات نہیں دے سکتے۔ نہ جانے گولی کدھر سے آنکلے لیکن میری فوج کا سپاہی سینہ تان کر سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس میرا سیاستدان، سیاستدان کا لخت جگر ٹھنڈی گاڑی سے نکل کر ٹھنڈے دفتر میں گھس جاتا ہے، ٹی وی پر بیٹھ کر رنگ برنگی باتیں کرتاہے۔ کبھی ایک دن بارڈر پر بھی گزار کر دیکھے پھر پتہ چلے کہ فوج کتنا بجٹ کھا جاتی ہے۔ میری آپ سے ایک ہی درخواست ہے کہ فوج کے علاوہ دیگر محکموں کے افسران اور ملازمین کو ایک ایک ہفتے کی ٹریننگ کے لیے پاک فوج کے سپرد کیا جائے اور بلکہ سال میں ایک ہفتہ کی ٹریننگ ضرور دی جائے ایک سچے اور کھرے پاکستانی ہونے کا موقع ملے گا، برین واشنگ بھی ہو جائے گی اور بوقت ضرورت یہ لوگ اپنے اپنے محکمہ میں ناگہانی آفتوں کو خود ہینڈل کرنے کے قابل ہو جائیں گے یا پھر پاک فوج کے شانہ بشانہ ملکی خدمات انسانیت کی بنا پر سرا نجام دینے کا موقع ملے گا۔ پاک فوج کے سپاہی کو اوور ٹائم نہیں ملتا ہے۔ پاکستان کے باقی تما م محکمہ جات میں اوور ٹائم ملتا ہے۔ کیا یہ پاکستانی نہیں ہے، میرے ہم وطنو! منظور یشتین جیسے بہت آستین کے سانپ موجود ہیں ان کی باتوں میں نہ آنا یہ مختلف قسم کے مہرے ہیں۔ ان باتوں پر ذرا سوچیں اور جن لوگوں من اس بات پر سیاہ ہو گئے ہیں کہ پاک فوج ۰۸ فیصد بجٹ کھا جاتی ہے، پلیز یہ سب کچھ کہنے سے پہلے ضرور سوچیں کہیں آپ کی وجہ سے ایک سادہ لوح پاکستانی فوج سے بد زن نہ ہو جائے کیونکہ مفاد پرست تو ایسا کہتے ہیں لیکن سچا، کھرا اور محب وطن ایسا نہیں سوچتا۔ شکریہ۔


مصنف کے بارے میں

گل شیر ملک

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.