سماجی پہلو صحت معلومات

پنجاب میں سکولوں کے لیے ایس او پیز جاری


پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں تعلیمی اداروں کو کھولنے کے قواعد جاری کیے گئے ہیں۔ صوبے کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیے جانے والے  کئی صفحات کے ایس او پیز میں ہر پہلو پر بات کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ حکومت نے 15 ستمبر سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔

بنیادی اصول:

محکمہ صحت کی جانب سے تعلیمی اداروں کے لیے جاری ہونے والے سات صفحات پر مشتمل ایس او پیز کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ بیسک پرنسپلز یا بنیادی اصولوں کا ہے۔ اس حصے میں ہاتھ دھونے، سانس کے معاملات، سماجی فاصلے اور صفائی کے انتظامات کو رکھا گیا ہے۔
سکولوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ سٹاف اور بچوں کے ہاتھ دھونے کے عمل کو یقینی بنائیں۔ اور اگر تو صابن سے ہاتھ دھونے ہیں تو پھر چالیس سیکنڈز تک دھوئے جائیں البتہ اگر ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنا ہے تو کم از کم بیس سیکنڈز تک اسے ہاتھوں پر لگایا جائے جبکہ سینیٹائزر میں 60 فیصد سے زیادہ الکوحل ہونی چاہیئے۔
طلبہ کو بتایا جائے کہ وہ بلاوجہ اپنے ہاتھ فرنیچر اور دیگر اشیا پر نہ لگائیں۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد طلبہ اسی طریقے سے ہاتھ دھوئیں، بہتر ہے کہ وہ نہا لیں پھر گھر والوں سے میل جول کریں۔ سکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صابن اور سینی ٹائزرز کا مناسب سٹاک یقینی بنائیں گے۔
سکولوں میں طلبہ یا اساتذہ کسی کو بھی سانس کا مسئلہ درپیش ہو تو ایسے فرد کو فوری طور پر الگ کر دیا جائے۔ سکول کے اندر جہاں بھی فاصلہ چھ فٹ سے کم ہو ایسی کسی بھی اجتماع میں ماسک پہننے کو یقینی بنایا جائے۔ یہ شرط اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے ہو گی۔
بچوں کو اس بات کی خاص تربیت دی جائے کو وہ چھینیک ماسک یا آستین کے پیچھے لیں۔ اسی طرح سکول پابند ہوں گے کہ وہ سکولوں میں فیس ماسک وافر تعداد میں رکھیں۔
سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کے لیے ایس او پیز میں کافی زیادہ احتیاطی تدابیر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایک فرد سے دوسرے فرد کے درمیان سماجی فاصلے کو چھ فٹ تک یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سکولوں کو صبح کی اسمبلی سے روک دیا گیا ہے اسی طرح داخلی اور خارجی راستوں پر سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے ایک سے زیادہ گیٹ بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
تعلیمی اداروں کی بسوں میں استعداد سے آدھے طلبہ کو بٹھایا جائے۔ اسی طرح ہوسٹلوں میں رہنے والے طلبہ کی تعداد 30 فیصد کم کی جائے کسی بھی کمرے میں دو سے زیادہ طلبا کو نہ رہنے دیا جائے۔ اسی طرح اساتذہ بھی تعلیم دیتے ہوئے مناسب سماجی فاصلہ اختیار کریں۔
سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں میں ہر طرح کی انڈورز گیمز یا مقابلوں پر پابندی ہوگی البتہ ٹریننگ کی غرض سے صرف کھلاڑیوں کی حد تک یہ پابندی نہیں ہو گی۔
کلاس رومز میں طلبہ کو چھ فٹ کے فاصلے پر بٹھایا جائے اور اگر فرنیچر زمین میں فکس ہے تو طلبہ کو مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ طلبہ ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔
تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز میں اخباروں کے سٹینڈ اور ٹی وی رومز بھی بند رہیں گے۔ نرسری اور کے جی کی کلاسز میں پلے ایریاز مکمل بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صفائی کے انتظامات کو بھی ایس او پیز میں خاصی زیادہ جگہ دی گئی ہے۔ تعلیمی ادارے کھلنے سے تین روز قبل تک تمام عمارتوں کو جراثیم کش سپرے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اسی طرح جن ہاسٹلز میں کورونا کے مریض آئسولیشن میں رکھے گئے ہیں ان کو بھی ڈس انفیکٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کلورین کے محلول سے روزانہ کی بنیاد پر کلاس رومز میں چھڑکاؤ اور واش رومز میں بار بار صفائی کے لیے لوگ متعین کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ کلاس رومز سے قالین اور میٹس اٹھانا بھی ایس او پیز میں شامل ہے۔
طلبہ پر اپنے گھر سے لایا ہوا کھانا دوسروں سے شیئر کرنے پر پابندی ہو گی۔ اسی طرح سکھائی کے عمل میں استعمال ہونے والا ہر طرح کا سامان ایک دوسرے سے شئیر کرنے بھی پابندی ہو گی۔

صحت سے متعلق بیداری:

محکمہ صحت سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے دوسرے حصے میں بچوں میں صحت سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے تین حل تجویز کیے گئے ہیں۔ جس میں مجموعی صحت، مینٹل ہیلتھ یا ذہنی صحت اور کورونا سے متعلق آگاہی کے موضوعات کو رکھا گیا ہے۔
تعلیمی اداروں میں آنے والے طلبہ اور اساتذہ کا مکمل صحت کا ریکارڑ رکھنے کے لیے انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے خاص طور پر ایسے افراد جو کسی نہ کسی طرح سے بیماری سے متاثر ہوں گے ان کا ریکارڈ تعلیمی اداروں کے پاس ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
تعلیمی اداروں میں طلبہ سمیت ہر آنے والے فرد کا درجہ حرارت چیک کرنے کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ بخار یا سانس میں تکلیف جیسی علامات میں طلبا اور اساتذہ کو گھر رہنے کی تلقین کی جائے گی۔
کسی بھی تعلیمی ادارے سے پانچ سے زائد ایسے کیسز نکل آئیں جن پر کورونا کا شبہ ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر محکمہ صحت کو دی جائے گی۔
اسی طرح مینٹل ہیلتھ یا ذہنی صحت سے متعلق سیکشن میں طلبہ کو قائل کیا جائے گا کہ وہ اپنی صحت پر کھل کے بات کر سکیں۔ طلبہ کو بتایا جائے گا کہ بیمار ہونا ایک عام سی بات ہے، اس خوف سے کہ دوسرے انہیں کورونا کا مریض سمجھیں گے، کی وجہ سے اپنی صحت پر کمپرومائز نہ کریں۔
دیانت داری سے اپنی صحت سے متعلق بتائیں۔ خاص طور طالبات کی ذہنی صحت کا خیال رکھا جائے ہو سکتا ہے کہ ان کو گھر میں کسی مریض کی دیکھ بھال جیسے مراحل کا سامنا ہو۔
آخری حصے میں تعلیمی اداروں کو کورونا سے متعلق آگہی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں کورونا سے متعلق تمام طرح کی دستیاب معلومات اداروں میں آویزاں کرنا اور ماہرین صحت کو تعلیمی اداروں میں بلا کر اس موضوع پر طلبہ سے انٹرایکشن کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.