معلومات

Part-2-ڈارک ویب کیا ہے


ڈارک ویب کیا ہے
حصہ دوم (آخری)

ریڈرومز، ٹارچر سیلز، ڈارک رومز، ڈیتھ رومز، قصاب خانہ، ذبیح خانہ….

آپ ریڈرومز کو کوئی بھی نام دے سکتے ہیں کیونکہ یہاں جتنا بھیانک کھیل کھیلا جاتا ہے وہ آپکی سوچ کی وسعتوں میں بھی نہیں آسکتا۔

آپ کی سوچ میں ذیادہ سے ذیادہ موت تک بات جاسکتی ہے لیکن یہاں درد کا وہ کھیل کھیلا جاتا ہے جو موت کو بھی رُولا دیتا ہے۔

پاکستان میں اکثر لوگوں نے ڈارک ویب کے بارے میں زینب والے واقعے کے بعد ہی سُنا ہو لیکن میں اس پہ 2012 سے کام کررہا ہوں جب کچھ نیا کرنے اور انٹرنیٹ پر کچھ نیا ڈھونڈنے کی چاہ نے مجھے ڈارک ویب سے روشناس کروایا۔

ڈارک ویب کی باقی دُنیا گھوم لینے کے بعد اور اس پہ کافی ریسرچ کرنے کے بعد میرا واسطہ ریڈ رومز سے پڑھا اس کے بارے میں جوں جوں جانتا گیا خود کے انسان ہونے پہ شرم بھی آتی رہی اور نفسیاتی طور بھی کافی الجھنوں کا شکار ہونے لگا

کیونکہ یہاں جو ہوتا ہے وہ میں نہیں چاہتا آپ سب کے سامنے آئے اور آپکی کسی اندھیرے کنوویں میں جا گریں میرے لیے بھی یہ سب پہلی بار ہی تھا کبھی نہ دیکھا تھا نہ سوچا کہ دُنیا میں یہ سب کچھ بھی ہوتا ہے.

خیر آئیں اس جہاں کو بھی لفظوں میں وزٹ کرتے ہیں۔
ریڈ رومز کے اندر انسانوں سے لیکر جانوروں تک درداور خوف کا وہ کھیل کھیلاجاتا ہے جسے شاید عام انسان کسی طور بھی برداشت نہ کرسکیں انسانیت تو انسانیت شیطانیت بھی شرماجائے۔

دُنیا بھر میں موجو ظالم، سفاک اور نفسیاتی مریض اس دُنیا کا حصہ ہوتے ہیں، یہاں یہ لوگ بڑی رقم کے عوض اپنی کوئی بھی خواہش پوری کرواسکتے ہیں کوئی بھی کا مطلب کوئی بھی۔ براہ راست ریپ سے لیکر براہ راست مرڈر تک بچوں سے ذیادتی سے زندہ انسانوں کی چیر پھاڑ تک۔

ان ریڈ رومز کی دُنیا انتہائی ہولناک ہوتی ہے جہاں پیسہ بھرنے کے بعد ان سفاک انسانوں کی خواہش کے مطابق کسی انسان کے ہاتھ پاؤں، آنکھیں ، ناک، کان تک بھی کاٹے جاتے ہیں، بچوں، لڑکیوں، لڑکوں کو اغواء کرکے ان ریڈرومز میں لایا جاتا ہے اور خواہش مند افراد کی مرضی کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔ یعنی جس طرح سامنے والا شخص چاہے وہی سلوک ہوگا ریپ کا کہے یا چیرنے پھاڑنے کا کہے یا پھر قتل کا کہے وہی ہوگا۔

اس کے علاوہ اگر سامنے والا کسی جانور کے ساتھ ظلم ہوتے دیکھنا چاہے تو وہ آپشن بھی دستیاب ہوتا ہے یعنی پیسہ پھینک تماشہ دیکھ۔

پاکستان میں زینب اوردنیا بھر سے بچوں کے ساتھ ذیادتی کے واقعات میں سے اکثر کا تعلق اسی ریڈ رومز سے ہے جہاں سفاک افراد پیسے دیکر یہ سب کچھ لائیو ہوتا دیکھتے ہیں زینب کے وقت بھی کئی جگہوں سے یہ انسانیت سوز حرکت براہ راست دیکھی جارہی تھی۔

بھارت میں ذیادتی کے دن بدن بڑھتے واقعات کا تعلق بھی اکثر ڈارک ویب اور انہی ریڈ رومز سے جاملتا ہے جسے دُنیا بھر سے لائیو دیکھا جاتا ہے۔ پہلے حصے میں ہم نے انسانی اعضاء کی فروخت کا بھی جانا تھا تو ریڈرومز میں لائیو انسانی اعضاء کاٹنے کے بعد وہیں انکو بیچنے کو بھی بھیج دیا جاتا ہے۔

ریڈ رومز کے بارے میں میں نے بس چیدہ چیدہ اورسادہ سے الفاظ میں سمجھایا ہے اگر اس کی پیچیدگی اور گہرائی میں جاؤں تو شاید آپ پڑھ ہی نہ سکیں۔

گمبلنگ : دنیا کا سب سے بڑا جوا بھی ڈارک ویب پر ہی کھیلاجاتا ہے، ڈارک ویب پر دُنیا بھر سے جواکھیلاجاتا ہے، ہزاروں کی تعداد میں آن لائن کیسینو بھی ڈارک ویب کا حصہ ہیں۔ ڈارک ویب پر انسانی جان سے لیکر کرکٹ میچ، فٹبال اور ہر طرح کا جواء کھیلا جارہا ہوتا ہے۔

اس جوئے میں اکثر لوگ اپنی اپنی جانوں تک پر جوا کھیل جاتے ہیں اور ہارنے کی صورت میں انکی موت کا منظر جیتنے والے افراد براہ راست دیکھتے ہیں۔

یہاں انسان اور انسانیت نام کی کسی چیز کا تصور ہی نہیں ہوتا۔ مریانہ ویب پہ کچھ بات کرنے کے بعد آپ کو بتاؤں گا کہ ڈارک ویب چل کیسے رہا ہے اور اس کو پکڑنا ناممکن کیوں ہے؟

4۔ مریانہ ویب:
یہ انٹرنیٹ کی دُنیا کاسب سے ذیادہ خفیہ اورڈارک ویب سے بھی کئی گنا خطرناک حصہ سمجھا جاتا ہے۔

اس حصے کو نام دینے کی وجہ دُنیا میں سمندر کا سب سے گہرا مقام ہے جسے “مریانہ ٹرینچ” کہا جاتا ہے۔

مریانہ ویب تک دُنیا کے چند ہی اہم افراد کو رسائی حاصل ہے یہ افراد اور کوئی نہیں بلکہ فری مسینری اور الومیناٹی کو کنٹرول کرنے والے وہ چند افراد ہیں جو اس وقت ساری دُنیا کوکنٹرول کیے ہوئے ہیں یوں کہیں کہ اس وقت امریکہ اسرائیل اور یورپی قوتیں انکے زیرِ تسلط ہیں۔

مریانہ ویب کےبارے میں اتنا ہی جان لیجئے کہ آپ چاہے کتنے ہی بڑے آئی ٹی ایکسپرٹ اور ہیکر ہی کیوں نہ ہوں آپ مریانہ ویب میں نہیں جھانک سکتے۔

کہا جاتا ہے کہ دُنیا بھر کے تمام راز اور خفیہ معلومات مریانہ ویب میں موجود ہیں اور انہیں صرف اور صرف وہ لوگ ہی ایکسس کرسکتے ہیں جن کے پاس لنکس اور ایک خاص ایکسس کوڈ ہوگا اس کے لنکس ملنا ہی ناممکن ہے لیکن فرض کریں کہ اگرآپکو لنکس مل گئے تو آپ کے پاس کوڈ نہ ہوں تو بھی ان لنکس کا کوئی فائدہ نہیں اور فرض کریں اگر آپکو لنکس اور ایکسس کوڈ دونوں مل گئے تب بھی آپکو مریانہ ویب تک ایکسس کے لیے کوانٹم کمپیوٹر جیسی کمپیوٹنگ چاہیے ہوگی تاکہ آپ مریانہ ویب کے اس پیچیدہ ترین ڈیٹا کو پروسس کرسکیں تو اب یوں سمجھ لیں کہ مریانہ ویب پر جانا ناممکن ہے۔

مریانہ ویب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ الومیناٹی، فری میسنز، دجال سے متعلق معلومات، نیوورلڈ آرڈر کا سارا کھیل تماشہ، انسانوں پر ہونے والے غیر فطری تجربات، ہارپ، برمودہ تکون اور دوسری تمام شیطانی طاقتوں کے راز اسی مریانہ ویب میں دفن ہیں۔

اب آتے ہیں آخر میں کہ ڈارک ویب کو چلایا کیسے جارہا ہے اور اسے پکڑنا کیوں تقریبا ً ناممکن ہے اور ہم ڈارک ویب کو کیسے وزٹ کرسکتےہیں؟

تو ڈارک ویب کو وزٹ کرنے کاا یک سب سے سادہ اور بہترین ٹول ہے “ٹُور” براؤزر جسے “ٹوٹل اوننین راؤٹر” کہا جاتا ہے۔

اس کا یہ نام رکھنے کا مقصد اس کے کام کرنے کا طریقہ ہے جس میں کئی ہزار آئی پی ایڈریسز چند منٹ میں بدلنے کی صلاحیت ہے آسان لفظوں میں کہوں تو جیسے پیاز پرت در پرت ہوتا ہے ویسے ہی یہ بھی پرت در پرت کام کرتاہے۔

رُکیے صاحب رُکیے کہاں چلے ٹھہرئیے تو آپ اگر یہ سُوچ رہے ہیں کہ صرف “ٹُوربراؤزر”ڈاونلوڈ کرنے چلیں ہیں تو کوئی فائدہ نہیں میں آپکو وہ احتیاطی تدابیر نہیں بتانے والا کہ “ٹُور” کے ساتھ کچھ چیزوں کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے جو کہ آپکو ٹریس ہونے سے بچاتی ہیں وہ کہ میں شئیر نہیں کرنے والا نہ ہی پوچھیے گا.

چلیں آگے بڑھتے ہیں کہ ٹور کیا ہے؟

ٹور ایک ویب براؤزر ہے جس کا اب مقصد یہ تھا کہ انٹرنیٹ پر حکومت اور اداروں کی سنسر شپ سے بچا جاسکے لیکن پہلے پہل اسکے وجود میں لانے کے پیچھے امریکی دفاعی اداروں کا ہاتھ تھا کبھی اس کے متعلق تفصیل سے بتاؤں گا.

یہ ٹور براؤز کئی ہزار وی پی اینز کا ایک نیٹورک ہے ہمارے عام نیٹورک میں سارا کچھ سامنے ہوتا ہے ہمارا ڈیٹا چند ایک نیٹ ورک سے ہوتاہوا اپنی منزلِ مقصود تک جاتا ہے جس کا ریکارڈ آپکی آئی ایس پی یعنی جو کہ آپکو انٹرنیٹ فراہم کررہے ہیں جیسا کہ پی ٹی سی ایل یا موبائل کمپنیز وہ اپنے پاس محفوظ رکھتی ہیں اگر آپ کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ ہیں تو وہ معلومات آپکے سیکیورٹی اداروں کو فراہم کردی جاتی ہے اور آپ دھرلیے جاتے ہیں.

جبکہ ٹُور کے اندر ایسا نہیں ہے اس میں جب ڈیٹا آپ سے جاتا ہے تو اپنی منزلِ مقصود تک جاتے جاتےیہ اتنے راستوں سے ہو کر جاتا ہے کہ آپ سوچ کر بھی چکرا جائیں

اس کی ایک سادہ سی مثال یہ لے لیں کہ آپ نے گوگل پر کچھ سرچ کرنا ہے تو اگر آپ ٹور سے سرچ کریں تو ٹور ایک وقت میں آپ کے ڈیٹا کو کئی ٹکڑوں میں تُوڑ کر الگ الگ راستوں سے گوگل تک پہنچا دے گا اور درمیان میں بیٹھے کسی شخص یا آئی ایس پی کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ نیٹ ورک پر کیا گزر کر گیا ہے

یعنی اگر ڈیٹا 500 ٹکڑوں میں 500 آئی پیز سے گزر کر گیا ہو تو کسی کو علم نہیں ہوسکتا کہ ڈیٹا کس نے کیا اور کس راستے ہیں بھیجا ہےاس لیے اس ٹریس کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

چلیں ایک اور بات کی جانب کہ اگر ہم سرفیس ویب پر ایک ویب سائٹ بناتے ہیں تو آپکو ایک ڈومین نیم یعنی اپنی ویب سائٹ کے لیے ایک نام خریدنا پڑتا ہےجس پر اگر آپ کوئی بھی غیرقانونی کام جیسے انسانوں کی خریدوفروخت اور منشیات فروشی کا دھندہ کرتے ہیں تو اس ڈومین کو ٹریس کرکے ویب سائٹ کو بند کردیا جائےگا اور آپ کو دھر لیا جائے گا جبکہ آپ یہ سن کر یقیناً ایک زبردست جھٹکا لگے گا کہ ڈارک ویب کی دُنیا میں ایسا کچھ نہیں ہوتا نہ وہ ڈومین خریدنے کی ضرورت پیش آتی ہے نہ ہی اپنا ڈیٹا رکھنے کے لیے آن لائن ہوسٹنگ خریدنے کی ضرورت بلکہ یہاں پر سب کچھ اپنے اپنے کمپیوٹر پر ہی ہوتا ہے۔

ڈارک ویب پر جتنی بھی ویب سائٹ چل رہی ہیں وہ ساری ہر فرد اپنے اپنے کمپیوٹر پر چلارہا ہے یعنی کہ لوکل ہوسٹ پہ اپنی ویب سائٹ کو آن لائن رکھے ہوئے ہے کمپیوٹر یعنی ویب سرور بند تو ویب سائٹ بند، یہ سرور بھی اسی ٹور کے ذریعے ہی چل رہے ہیں ان پر آنے جانے والا ڈیٹا ہزاروں آئی پیز بدل کر آتا ہے اس لیے ان کو ٹریس کرنا ناممکن ہے اس لیے یہ سلسلہ بند نہیں ہوسکتا اور نہ کوئی ان تک پہنچ سکتا ہے۔

ڈارک ویب ایک ایسی بھول بھُلیاں جہاں کھو جانے والا کبھی واپس نہیں آسکتا خدا کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں یہاں جانے سے گریز کریں ورنہ آپکو اندھیروں میں کھونے سے کوئی نہیں بچاسکتا پہلے تو یہاں موجود وائرسز اور ہیکرز آپکو نہیں چھوڑیں گے لیکن اپ ان سے بچ بھی گئے تو آپکو نفسیاتی مریض بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.

اس دُنیا میں جانا اور اس کی کھوج کرنا شاید اتنی بڑی بات نہیں لیکن اس دُنیا میں جا کر اپنے اعصاب پر قابو رکھ پانا ایک کٹھن ترین کام ہےکیونکہ ڈارک ویب پر 75٪ صرف ظلم اور ذیادتی اور مارنا کاٹنا، خون خرابہ ہی ہوتا ہے جسے بھولنا ممکن نہیں۔

واللہ اس وقت یہ سب لکھتے وقت جو ذہنی و نفسیاتی دباؤ میں خود محسوس کررہاہوں وہ صرف میرا اللہ ہی جانتا ہے کیونکہ میں نے ان پُرانی یادوں سے بڑی مشکل سے پیچھا چھڑوایا تھا حالات و واقعات نے ایک بار پھر لکھنے پر مجبور کردیا تاکہ آپ لوگوں کو رُوک سکوں ورنہ اس پہ بات نہ کرتا۔

یہ مکڑی کا ایسا جال ہے جس میں پھنس کرنکل جانا بڑا ہی مشکل کام ہے یہاں صرف اور صرف دھوکہ ہے جھوٹ ہے، فریب ہے مکاری ہے، ہر شخص اپنے لیے ہی ہےاور اکثر ان کے پیچھے بہت بڑا مافیا موجود ہوتا ہے جن میں بڑےبڑے ممالک کی حکومتیں اور سیاسی شخصیات شامل ہوتی ہیں جنہیں ہاتھ ڈالنا ابلتے لاوے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے.

اس مافیا کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا بس اتنا ہی جان لیجئے کہ زنیب واقعے کے بعد کتنے بڑے بڑے مکروہ چہرے سامنے آئے ہیں آپ نے دیکھ لیا ہوگا اور انکی پہنچ بھی دیکھ ہی چکے ہیں پاکستان میں ایسے کئی بڑے بڑے نام اورشیطان کے چیلے موجود ہیں جو کے اس کا حصہ ہیں۔

میرا یہ سب لکھنے کا مقصد آپکی دلچسپی میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ آپ لوگوں کی بڑھتی دلچسپی کو مارناہے جوں جوں ڈاک ویب کاذکر ہوتا ہے توں توں انباکس اور وٹس ایپ پر فرمائشیں آتی رہتی ہیں کہ ڈارک ویب وزٹ کرنا ہے کیا کریں کیسے کریں۔

میں نہیں چاہتاکہ پھر کوئی بیلو وہیل گیم کی طرح ایک نیا سانحہ پاکستان میں جنم لے یا آپ میں سے کوئی خود کسی مصیبت میں گرفتار ہوں۔ میرے پاس کچھ ایسی چیزیں تھیں جو کہ آپ نہیں دیکھ سکیں گے ورنہ آپکو دور رکھنے کے لیے ضرور شئیر کرتا.

لیکن یقین کیجئے وہ ایک کمزور دل انسان نہیں دیکھ سکتا ڈارک ویب کی تاریکیوں اور بھول بھلیوں میں دلچسپی لینے کی بجائے کچھ اچھا کیجئے کچھ مثبت کیجئے اپنی سوچ مثبت کاموں میں لگائیے.

ڈارک ویب شیطانوں کی آماجگاہ ہے اس کی طرف مت بڑھیے دوست سمجھیے بھائی سمجھیے، میری طرف سے ایک مشورہ یا گذارش سمجھیے مت پڑھیے اس میں یہاں آپ کے لیے کچھ نہیں ہے میں خود خود یہاں رہ چکا ہوں صرف برے خوابوں اور نفسیاتی الجھنوں کے یہاں کچھ نہیں ہے. خدارا دور رہیں دور رہیں…..

#Hunting_Prince


مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.