معلومات

Part1-ڈارک ویب کیا ہے؟


حصہ اول

ڈارک ویب کیا ہے؟
ہمارے سامنے انٹرنیٹ کی ایک ایسا دنیا ہے جس کی وسعت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے ہم دن بھر میں فیس بک، گوگل، یوٹیوب، انسٹاگرام جیسی ہی چند سروسز تک ہی رہ جاتے ہیں اور یہاں تک کہ اگر اپنی 1000 سالہ زندگی بھی صرف کردیں تو ایک گوگل کو ہی ہم نہیں کھنگال پائیں گے.

یہ اتنی بڑی دنیا ہے کہ یوٹیوب کی طرف آئیں تو یوٹیوب کی ایک ایک ویڈیو کو ہم الگ الگ کرکے دیکھیں تو شاید ایک لاکھ سال کی زندگی بھی کم پڑجائے. فیس بک کی بات کریں تو فیس بک کے بننے سے اب تک جو جو بھی لوگ اس پر آئی ڈیز بنا چکے ہیں اگر وہ پیچھے جا کر فیس بک یوزر کی اب تک ساری معلومات کنگھالنا چاہیں تو یقیناً ہزاروں سال درکار ہونگے.

تو اب آگے بڑھتے ہیں کہ کیا انٹرنیٹ صرف یہی ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں؟ نہیں صاحب بالکل نہیں جو کچھ ہمیں نظر آرہا وہ شاید 5 فیصد ہی ہے.
انٹرنیٹ کے 4 حصے ہیں جن میں سے ہمیں صرف ایک تک رسائی حاصل ہے.

1. Surface Web
2. Deep Web
3. Dark Web
4. Mariana Web

میں باری باری چاروں کے بارے میں بات کرونگا گا ان شاءاللہ۔ اس تحریر لکھنے کا مقصد صرف ایجوکیشنل ہے جوں جوں ڈاک ویب کا ذکر بڑھتا جارہا ہے لوگوں کی دلچسپی بڑھتی جاری ہے اور لوگ اس دُنیا کی سیر کرنے کو بےتاب ہیں میں اس دُنیا کا بہت پرانا مسافر رہ چکا ہوں بہت کچھ دیکھ چکا ہوں اس لیے کوشش کررہا ہوں کہ آپ دوستوں کے سامنے رکھوں تاکہ آپ لوگ اس دُنیا میں جانے کی کوشش نہ کریں۔

1۔ سرفیس ویب کیا ہے؟
جواب: سرفیس ویب انٹرنیٹ کا وہ حصہ ہے جو ہر کسی کےلیے قابلِ رسائی ہے جیسے فیسبک، گوگل، یوٹیوب وغیرہ اسے کوئی بھی شخص باآسانی وزٹ کرسکتا ہے اور اسے وزٹ کرنا، اس پر کام کاروبار کرنا بالکل لیگل ہے لیکن یہاں آپ جو کچھ کریں گےوہ آپکے اداروں کی رسائی میں ہونگے یعنی آپ کوئی بھی غیر قانونی کام کریں گے توآپ پکڑے جاسکتے ہیں۔

2۔ ڈیپ ویب کیا ہے؟
ج۔ ڈیپ ویب یہ قابلِ رسائی ہے لیکن ہر فرد کے لیے نہیں بلکہ متعلقہ شخص کے لیے۔ اس کی مثال یوں لے لیں کہ یہ ہمارا نادرا ہے اور نادرا میں صرف متعلقہ شخص ہی رسائی حاصل کرسکتا ہے جن کو ادارے نے رسائی فراہم کی ہوتی ہے یعنی کے لاگن دیا ہوتا ہے۔
اس کی دوسری مثال لے لیں کہ ایک کمپنی کا ڈیٹابیس، بینک کا ڈیٹا بیس، موبائل کمپنیز کا ڈیٹا بیس، تعلیمی اداروں کا ڈیٹا بیس جن میں صرف متعلقہ لوگ ہی اپنی لاگن کے ذریعے ہی دیکھ سکتے ہیں لیکن عام لوگ اس میں نہیں جاسکتےیہ بالکل لیگل ہے فیس بک کو ہی دیکھ لیں جب تک آپ اپنی آئی ڈی سے لاگن نہیں ہونگے آپ کچھ نہیں کرسکیں گے تو یہ بالکل لیگل ہے آپ بھی اپنی ویب سائٹ بنا کر صرف چند لوگوں کو رسائی دیں گے تو یہ ویب سائٹ بھی ڈیپ ویب کا حصہ کہلائے گی.

ڈارک ویب کیا ہے؟
3۔ یہ ہے انٹرنیٹ کا وہ بدنما ترین چہرہ جس تک کسی بھی عام شخص کی رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی آپ اسے عام انٹرنیٹ براؤزر سے ایکسس کرسکتے ہیں کیونکہ پہلے تو اس تک عام انٹرنیٹ براؤزر سے رسائی ممکن ہے ہی نہیں لیکن اگر آپ کسی بھی طرح اس تک رسائی حاصل کرلیں تو امید ہے اگلے چند لمحے میں آپ قانون کی گرفت میں ہونگے کیونکہ اس میں جانا غیرقانونی ہے۔

چلیں کچھ اس پہ بات کرتے ہیں کہ یہ اتنا بھیانک کیوں ہے اور انکو پکڑپانا کیوں تقریباً ناممکن ہے۔
ڈارک ویب ایک ایسی تاریک دُنیا ہے جہاں اچھائی اور کسی بھی اچھے کام کے متعلق سُوچنا ناممکن سی بات ہے یہ شیطانی طاقتوں کا ایک ایسا گڑھ ہے جس میں سوائے شیطانیت کے آپکو کچھ نظرنہیں آئے گا۔

ڈارک نیٹ پہ موجود تمام کا تمام مواد انکرپٹڈ ہوتا ہے اور گوگل جیسے تمام سرچ انجن کی پہنچ سے بہت دور ہوتا ہے تب ہی اس تک عام رسائی ممکن نہیں.

اسکو بنانے والے وہ سارے شیطانی دماغ کے لوگ تھے جنہوں نے بیرونی دُنیا میں تمام برے دھندے پکڑے جانے کے خوف سے اپنا ایک شیطانی جال بنایا جسے ڈارک ویب کا نام دیا گیا۔ ڈارک ویب کے بارے میں لکھیں تو شاید کئی سال لگ جائیں لیکن اس کی چیدہ چیدہ باتیں لکھوں تو ڈارک ویب مکمل طور پر غیرقانونی اور غیرانسانی جرائم کا اڈہ ہے۔

جہاں دُنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد، منشیات فروش، قاتل، دہشتگرد، ہیکرز، چور، سفاک ترین ذہنی مریض، اسلحہ فروش،انسان فروش، اسمگلرز اور دیگر ایسے تمام جرائم پیشہ افراد کی موجودگی ہے جو کہ آپکو عام دُنیا میں کھلے عام گھومتے نہیں مل سکتے بلکہ یہ کہنا بالکل بھی غلط نہ ہوگا کہ دنیا میں آج جتنے بھی جرائم ہورہے ہیں یہ ڈارک ویب کی بدولت ہی ہورہے ہیں کیونکہ ہر جرم کی آماجگاہ ڈارک ویب ہے۔

ڈارک ویب پر ہر وہ جرم کیا جاسکتا ہے جسے آپ سُوچ سکتے ہیں مطلب آپ جو بھی سُوچ سکتے ہیں۔

سلک روٹ نامی ویب سائٹ جو کہ ڈارک ویب کا ایک بدترین دھندہ ہے جس میں آپکو دُنیا کے کسی بھی کونے سے کسی بھی طرح کی منشیات مل سکتی ہیں، یہاں پر ہر قسم کی نشہ آور اشیاء، ادویات، جن میں ہیروئین، افیم، شراب، چرس، بھنگ باآسانی دستیاب ہیں۔

ایسے دھندے میں ملوث کئی لوگوں کو ٹریس کیا گیا ہے لیکن اس کاروبار کو دہائیوں بعد بھی نہ روکا جاسکا نہ ہی بند کیا جاسکا.

ڈارک ویب پر کسی بھی شخص کو قتل کروانے کے لیے دُنیا بھر سے قاتل دستیاب ہوتے ہیں بس انکی رقم ادا کریں اور فرد کی معلومات فراہم کریں اور یہ لوگ کسی بھی قتل کرسکتے ہیں کسی کو بھی یہاں تک کہ ان کو انکے خاندان کی سپاری بھی دیں تو بھی انکے ہاتھ نہیں کانپتے اور اپنا کام کرکے چھوڑتے ہیں، اکثر ممالک میں ہونے والے بڑی بڑی شخصیات کے قتل کے پیچھے اکثر اسی ڈارک ویب کے ہائیر کردہ قاتلوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ یہاں مختلف درجہ بندی کے لحاظ سے کوئی بھی قاتل دستیاب ہوتا ہے۔

اسلحہ منڈی: ڈارک ویب دُنیا کی سب بڑی اور بالکل غیرقانونی اسلحہ مارکیٹ ہے اس مارکیٹ میں آپ دُنیا کا کوئی بھی ہتھیار باآسانی خرید سکتے ہیں۔ دُنیا بھر میں ہونے والی دہشتگردی اور غیرقانونی اسلحہ کی خریدوفروخت میں ڈارک ویب قلیدی کردار ادا کررہا ہے۔

انسانی اعضاء سے انسانوں کی خریدوفروخت تک:
ڈارک ویب پر انسانی اعضاء کی فروخت ایک عام دھندا ہے یوں کہیں کہ انسانی اعضاء کی خریدوخت کا سب سے بڑا دھندا اسی ڈارک ویب پر ہی ہوتا ہے،یہ اعضاء کہاں سے لائے جاتے ہیں تو کچھ تو پیسوں کے لیے خود ہی یہ اعضاء فراہم کرتے ہیں اور دوسراانکا نیٹ ورک اتنا پھیلا ہوا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہزاروں ڈاکٹروں تک رسائی رکھتے ہیں جو ان سے پیسہ لیکر کسی بھی مریض کے اعضاء نکال کر بیچ دیتے ہیں۔
دنیا بھر سے اغواء ہونے والےاکثر افراد کو اسی ڈارک ویب کے ذریعےہی فروخت کیا جاتا ہے۔ جیسے ہم آئن لائن اسٹورز پر اشیاء خریدتے ہیں ڈارک ویب پر بالکل ایسی ہی ویب سائٹس موجود ہیں جوکہ انسانی خریدوفروخت کرتی ہیں جہاں فروخت ہونے والے شخص کی تصویر سے ذاتی معلومات تک مکمل تفصیل دی جاتی ہے۔

ہیکرز اور سائبر کرائمز:
سائبر کرائم کے حوالے سے ڈارک ویب ایک اپنی الگ دُنیا رکھتا ہے۔ یہاں آپکو دُنیا کے خطرناک ترین ہیکرز دستیاب ہوتےہیں جوکہ انٹرنیٹ کی دُنیا کے بڑے بڑے جرائم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ کریڈٹ کارڈ کی چوری سے لیکر آپکی ذاتی معلومات کی چوری تک سب کچھ یہ چند لمحوں میں کرلیتے ہیں۔

یہ لوگ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے قاتل ثابت ہوسکتے ہیں اکثر ہم بینکوں سے لاکھوں کروڑوں ڈالرز کی چوری، اے ٹی ایم ڈیٹا کی چوری سے متعلق خبریں سنتے ہیں اس سب میں ڈارک ویب کے ہیکرز کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔

میرا اس تحریر کو لکھنے کا ایک بڑا مقصد آپ سب کو اسی بات سے بھی آگاہ کرنا تھا کہ بناء کسی سیکیورٹی اور آئی ٹی کا علم رکھے اس دُنیا میں گھسنے کا سوچیئے گا ہی نہیں کیونکہ شاید اگر آپ اپنے سیکیورٹی اداروں کی نظر میں نہ بھی آئیں لیکن اگر آپ ایک عام یوزر ہیں اور اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم اقدامات کیے بغیر اس دُنیا میں جا گھسے تو ہیکرز آپکو نہیں چھوڑیں گے۔

یہاں ہزاروں کی تعداد میں وائرسز ایک منٹ کے اندر اندر آپکے کمپیوٹر میں گھس کر آپکو نانی یاد دلا دیں گے ۔اور اور خاص کر کبھی بھی ڈارک ویب یا اس کے متعلقہ براؤزر میں اپنی انفارمیشن بھول کر بھی شئیر نہ کیجئے گا جیسا کے کریڈٹ کارڈ، بینک انفارمیشن، اپنے لاگنز وغیرہ، کیونکہ یہ نیٹ ورک سینکڑوں وی پی اینز پر مشتمل ہوتا ہے آپ کی معلومات کہاں کس جگہ کس کہ ہاتھ جالگیں آپ کو علم ہی نہیں ہوگا۔
اکثر اوقات یہاں موجود ہیکرز آپکے لیپ ٹاپ کے کیمرہ اور مائیک تک بھی رسائی حاصل کیے بیٹھے ہوتے ہیں جو کہ آپکو نظر نہیں آرہا ہوتا لیکن آپکی تصاویر لے لی گئی ہوتی ہیں۔اس لیے اس ہیکرز، مال وئیرز اور وائرسز کی بھری دُنیا سے دور ہی رہیں تو بہت اچھا ہے۔

کچھ وقت پہلے ہم نے ایک بہت ہی مشہور گیم “بلیوویل” کے بارے میں سُنا تھا جس نے دُنیا بھر کے 130 بچوں سے ذیادہ کی جان لی تھی اور اس گیم نے دُنیا بھر میں خوب وہراس پھیلادیا تھا میں خود بھی اس گیم کو سمجھنے کےلیے اس کا شکار رہ چکا ہوں جس کے بارے میں نے پوری تفصیل سے لکھا تھا۔

بیلو وہیل نہ صرف یورپ بلکہ انڈیا اور پاکستان میں بھی کہرام مچا چکی ہے تو کیا آپکو علم ہے کہ وہ گیم اسی ڈارک ویب کا ہی حصہ تھی تب ہی اسے پکڑا ناممکن حد تک مشکل تھا کیونکہ اس گیم کو کنٹرول کرنے والےکون ہیں کہاں ہیں کسی کو علم نہیں تھا۔ جب اس کا ایک ایڈمن پکڑا گیا تو اسی نے بتایا تھا کہ یہ گیم ڈارک ویب پر کھیلی جارہی ہے اور یہ اس ایڈمن کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے اس لیے وہ اسے نہیں روک سکتا۔

ڈارک ویب پر آپکو جعلی شناختی کارڈ، جعلی پاسپورٹ، جعلی شہریت کے کاغذات،دُنیا بھر سے بچوں تک ذیادتی اور بچوں سے جنسی عوامل کی تمام ویڈیوز بھی اسی ڈارک ویب کا حصہ ہیں جو کہ ایک بہت ہی بڑا جرم ہے اور بالکل غیرقانونی ہے۔

ان شاءاللہ کل دوسرے یعنی اختتامی حصے میں ریڈ رومز، گمبلنگ اور یہ بتاؤں گا کہ ڈارک ویب کو کیسے چلایا جارہا ہے اور آخر کیا وجہ ہے کہ ڈارک ویب کو پکڑنا ناممکن ہے، ڈارک ویب کی ویب سائٹس کو کیسے بنایا اور چلایا جاتا ہے اور ایک چھوٹا سا پریکٹیکل بھی…..


مصنف کے بارے میں

خرم جرال

تبصرہ شامل کریں

تبصرہ پوسٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.